RAHBAR
04 Jan 2012 Leave a Comment
in غزل
میری امیدوں کا ترجماں لگا
میری امنگوں کا جہاں لگا
پھر دل سے اترتا گیا رہبر
جب نہ ابوبکروعمر،علی وعثماں لگا
GAZAL
04 Jan 2012 Leave a Comment
in غزل
بیان ہوئی یہ سب حکایتیں ہیں
جن میں پوشیدہ چاہتیں ہیں
ہم ان راہوں کے مسافرہیں
جن پرلہو سے رقم داستانیں ہیں
میں شام الم کو سحرکروں کیسے
میرے چار سو بکھری نفرتیں ہیں
دلوں سے نفرتیں نکال دیں
عداوتیں بڑھنے سے لاشیں ملیں
جب ہاتھ چھوڑکردوست چل دے
فساد و جہاد
08 Dec 2009 Leave a Comment
in غزل
آداب عرض ہے
اس وقت ملک جن حالات سے گذر رہا ہے اس پہ دل تو خونکے آنسو رو رہا ہے -
مگر اس وقت دل میں یہ بات بھی ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد -
بے گناہ لوگوں کے قتل پر دل افسوس اور ان شہدائے کے لیے دعا گو ہوں-
جہاد و فساد
اب جاہلوں نے فساد کو جہاد کہا ہے
احکام رسول سے خود کو آزاد کہا ہے
اپنی مرضی کا دین چاہتے ہیں
فساد کو وہی جہاد کہتے ہیں
منافقت کے علمبردار حکمراں ہمارے
لگتے ہیں ہمیں نہایت ہی پیارے
عہد و پیماں کا جو مذاق بناتے ہیں
احکام رسول کا یوں مذاق اڑاتے ہیں
ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے
کریں عوام گذارا روتے ہوئے
پاکستان کی احساس اسلام تھی
اخوت و محبت کا جو پیام تھی
عظمت اسلام کی جو داعی تھی
کرتی امن کی جو رہنمائی تھی
فسادیوں نے اللہ کو ہے للکارا
قرآن نے قوم مسلم کو پکارا
اللہ کرتا نہیں فسادیوں کو گوارا
ختم فساد تک جہاد ہے تمھارا
فسادیوں نے ہر جا کو بنایا مقتل ہے
مفسد حکم رسول سے واجب القتل ہے
پاکستانی قوم کا یہ ارادہ مصمم ہے
حکم الہی پہ سرتسلیم خم ہے
فساد کے خلاف علم جہاد بلند ہے
صفوں کو مضبوط کرو جہاد کرو
ان مفسدوں پہ نظر رکھو پاکستانیوں
ان کے چہرے بے نقاب کرو پاکستانیوں
جہاد کرو جہاد کرو جہاد کرو پاکستانیوں
baqaooy mall
30 Aug 2008 Leave a Comment
in نظم
بکاؤ مال
یہ قاضی بکنے والے انصاف کیا دیں گے- احسان تلے دبنے والے انصاف کیا دیں گے
لوگو تم اس دیس کے باسی ہو – حکومت جسکی غیروں کی داسی ہو
بدعنواں جسکے رہبر ہوں — ڈاکو لٹیروں جیسے اکابر ہوں
شیطان کی جہت تم جاتے جو – خود کو مسلمان بھی کہلاتے ہو
پھراسلام سے تمھارا کیا رشتہ ناتا — ہرقدم جب راہ شیطان پہ ہو جاتا
خود کو اللہ سے بڑا باغیرت بتلاتے ہو — اسی لیے عورتوں کو زندہ دفناتے ہو
جس دیس میں انصاف بکتا ہو —- غریبوں کو انصاف نہ ملتا ہو
اس دیس کے تم باسی ہو —- قاضی جس کا راشی ہو
جو قاضی حکمرانوں کے تلوے چاٹے— لوگوں میں انصاف کیسے بانٹے
دانش! تیری کون یہاں سننے گا —- بکاؤ مال تمھیں ہر سو ملے گا
tamana madina
21 Mar 2008 Leave a Comment
کی تمناۓ مدینہ ، ہو گۓ اشک روواں
وہ ارض مقدس ،کہاں میرا مضمحل ایماں
ہر اک ادا جسکی اک عنواں
وہ رسول مبین خلق جسکا قرآں
اک بار کندھوں پہ عاصی اٹھاۓ
جانب مدینہ چلا قدم قدم لرزاں
کیسے کہو گے اک نعت دانش
وہ سراپا تقدس نہ یہاں پہنچے گماں
کون کر سکے دانش انکی مدحت بیاں
بیاں کرے جسکی مدحت خود یزداں
trey rida
21 Mar 2008 Leave a Comment
صبح کو تیری ضیا سمجھوں
شب کو تیری ردا سمجھوں
مدینہ کی گلیاں تصور میں آئیں
خود کو جب میں گدا سمجھوں
سداکملی والے کے طفیل دانش
اہل دنیا سے بے پروا سمجھوں
Sahib iqtedar
20 Mar 2008 Leave a Comment
—————
صاحب اقتدار نے اک نئی طرح ڈالی ہے
نہ ہو انصاف عدالت ہی معطل کر ڈالی ہے
میں بڑا رہبر ہوں میرے بڑے رابطے ہیں
اسی لیے ہر حکم عدو پہ بے غیرتی کر ڈالی ہے
میں ہوں سپہ سالار پاکستان قوت ہوں میں
اسی لیے اپنی قوم ہی قتل کر ڈالی ہے
tanhaiyoon main
18 Mar 2008 Leave a Comment
تنہائیوں میں یادوں کے ساتھ ملو
کچھ دور اندھیروں میں میرے ساتھ چلو
میرے آنگن میں لگی آگ کون بجھاۓ
رہبر سے کہو کبھی میرے ساتھ جلو
تو کیوں ہے اس دہلیز کا گداگر
جو کہتا ہے تجھ سے سدا کہ ٹلو
دیا ملا کو تو نے ٹھیکہ پہ ایمان و دین
کبھی خود بھی فکر دین و ایمان پہ چلو
چھوڑی دی جو تو نے راہ فکر قرآن
بےتوقیری دربدری رسوائیوں سے ملو
دانش! کب تک کھاۓ گا دربدر کی ٹھوکریں
غیروں کو چھوڑ قرآن و صاحب قرآن سے ملو

Recent Comments