RAHBAR

میری امیدوں کا ترجماں لگا

میری امنگوں کا جہاں لگا

پھر دل سے اترتا گیا رہبر

جب نہ ابوبکروعمر،علی وعثماں لگا

GAZAL

بیان ہوئی یہ سب حکایتیں ہیں
جن میں پوشیدہ چاہتیں ہیں
ہم ان راہوں کے مسافرہیں
جن پرلہو سے رقم داستانیں ہیں
میں شام الم کو سحرکروں کیسے
میرے چار سو بکھری نفرتیں ہیں
دلوں سے نفرتیں نکال دیں
عداوتیں بڑھنے سے لاشیں ملیں
جب ہاتھ چھوڑکردوست چل دے

فساد و جہاد

آداب عرض ہے
اس وقت ملک جن حالات سے گذر رہا ہے اس پہ دل تو خونکے آنسو رو رہا ہے -
مگر اس وقت دل میں یہ بات بھی ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد -
بے گناہ لوگوں کے قتل پر دل افسوس اور ان شہدائے کے لیے دعا گو ہوں-

جہاد و فساد
اب جاہلوں نے فساد کو جہاد کہا ہے
احکام رسول سے خود کو آزاد کہا ہے

اپنی مرضی کا دین چاہتے ہیں
فساد کو وہی جہاد کہتے ہیں

منافقت کے علمبردار حکمراں ہمارے
لگتے ہیں ہمیں نہایت ہی پیارے

عہد و پیماں کا جو مذاق بناتے ہیں
احکام رسول کا یوں مذاق اڑاتے ہیں

ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے
کریں عوام گذارا روتے ہوئے

پاکستان کی احساس اسلام تھی
اخوت و محبت کا جو پیام تھی

عظمت اسلام کی جو داعی تھی
کرتی امن کی جو رہنمائی تھی

فسادیوں نے اللہ کو ہے للکارا
قرآن نے قوم مسلم کو پکارا

اللہ کرتا نہیں فسادیوں کو گوارا
ختم فساد تک جہاد ہے تمھارا

فسادیوں نے ہر جا کو بنایا مقتل ہے
مفسد حکم رسول سے واجب القتل ہے

پاکستانی قوم کا یہ ارادہ مصمم ہے
حکم الہی پہ سرتسلیم خم ہے

فساد کے خلاف علم جہاد بلند ہے
صفوں کو مضبوط کرو جہاد کرو

ان مفسدوں پہ نظر رکھو پاکستانیوں
ان کے چہرے بے نقاب کرو پاکستانیوں
جہاد کرو جہاد کرو جہاد کرو پاکستانیوں

write to BBC

baqaooy mall

بکا‎‎ؤ مال

یہ قاضی بکنے والے انصاف کیا دیں گے- احسان تلے دبنے والے انصاف کیا دیں گے

لوگو تم اس دیس کے باسی ہو – حکومت جسکی غیروں کی داسی ہو

بدعنواں جسکے رہبر ہوں — ڈاکو لٹیروں جیسے اکابر ہوں

شیطان کی جہت تم جاتے جو –  خود کو مسلمان بھی کہلاتے ہو

پھراسلام سے تمھارا کیا رشتہ ناتا — ہرقدم جب راہ شیطان پہ ہو جاتا

خود کو اللہ سے بڑا باغیرت بتلاتے ہو — اسی لیے عورتوں کو زندہ دفناتے ہو

جس دیس میں انصاف بکتا ہو —- غریبوں کو انصاف نہ ملتا ہو

اس دیس کے تم باسی ہو —-  قاضی جس کا راشی ہو

جو قاضی حکمرانوں کے تلوے چاٹے— لوگوں میں انصاف کیسے بانٹے

دانش! تیری کون یہاں سننے گا —-  بکاؤ مال تمھیں ہر سو ملے گا

 

tamana madina

کی تمناۓ مدینہ ،  ہو گۓ اشک روواں

وہ ارض مقدس ،کہاں میرا مضمحل ایماں

ہر اک ادا جسکی اک عنواں

وہ رسول مبین خلق جسکا قرآں

اک بار کندھوں پہ عاصی اٹھاۓ

جانب مدینہ چلا قدم قدم لرزاں

کیسے کہو گے اک نعت دانش

وہ سراپا تقدس نہ یہاں پہنچے گماں

کون کر سکے  دانش انکی مدحت بیاں

بیاں کرے جسکی مدحت خود یزداں

 

trey rida

صبح کو تیری ضیا سمجھوں

شب کو تیری ردا سمجھوں

مدینہ کی گلیاں تصور میں آئیں

خود کو جب میں گدا سمجھوں

سداکملی والے کے طفیل دانش

اہل دنیا سے بے پروا سمجھوں

 

Sahib iqtedar

—————

صاحب اقتدار نے اک نئی طرح ڈالی ہے

نہ ہو انصاف عدالت ہی معطل کر ڈالی ہے

میں بڑا رہبر ہوں میرے بڑے رابطے ہیں

اسی لیے ہر حکم عدو پہ بے غیرتی کر ڈالی ہے

میں ہوں سپہ سالار پاکستان قوت ہوں میں

اسی لیے اپنی قوم ہی قتل کر ڈالی ہے

tanhaiyoon main

تنہائیوں میں یادوں کے ساتھ ملو

کچھ دور اندھیروں میں میرے ساتھ چلو

میرے آنگن میں لگی آگ کون بجھا‎‎ۓ

رہبر سے کہو کبھی میرے ساتھ جلو

تو کیوں ہے اس دہلیز کا گداگر

جو کہتا ہے تجھ سے سدا کہ ٹلو

دیا ملا کو تو نے ٹھیکہ پہ ایمان و دین

کبھی خود بھی فکر دین و ایمان پہ چلو

چھوڑی دی جو تو نے راہ فکر قرآن

بےتوقیری دربدری رسوائیوں سے ملو

دانش! کب تک کھاۓ گا دربدر کی ٹھوکریں

غیروں کو چھوڑ قرآن و صاحب قرآن سے ملو

Previous Older Entries

Top Posts

    Recent Comments

    waywardwayfarer on pahchan
    hearttish on jab paroos main lagi
    umair on tarap
    Follow

    Get every new post delivered to your Inbox.