baqaooy mall

بکا‎‎ؤ مال

یہ قاضی بکنے والے انصاف کیا دیں گے- احسان تلے دبنے والے انصاف کیا دیں گے

لوگو تم اس دیس کے باسی ہو – حکومت جسکی غیروں کی داسی ہو

بدعنواں جسکے رہبر ہوں — ڈاکو لٹیروں جیسے اکابر ہوں

شیطان کی جہت تم جاتے جو –  خود کو مسلمان بھی کہلاتے ہو

پھراسلام سے تمھارا کیا رشتہ ناتا — ہرقدم جب راہ شیطان پہ ہو جاتا

خود کو اللہ سے بڑا باغیرت بتلاتے ہو — اسی لیے عورتوں کو زندہ دفناتے ہو

جس دیس میں انصاف بکتا ہو —- غریبوں کو انصاف نہ ملتا ہو

اس دیس کے تم باسی ہو —-  قاضی جس کا راشی ہو

جو قاضی حکمرانوں کے تلوے چاٹے— لوگوں میں انصاف کیسے بانٹے

دانش! تیری کون یہاں سننے گا —-  بکاؤ مال تمھیں ہر سو ملے گا

 

Top Posts

  • None

Recent Comments

waywardwayfarer on pahchan
hearttish on jab paroos main lagi
umair on tarap
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.