baqaooy mall
30 Aug 2008 Leave a Comment
in نظم
بکاؤ مال
یہ قاضی بکنے والے انصاف کیا دیں گے- احسان تلے دبنے والے انصاف کیا دیں گے
لوگو تم اس دیس کے باسی ہو – حکومت جسکی غیروں کی داسی ہو
بدعنواں جسکے رہبر ہوں — ڈاکو لٹیروں جیسے اکابر ہوں
شیطان کی جہت تم جاتے جو – خود کو مسلمان بھی کہلاتے ہو
پھراسلام سے تمھارا کیا رشتہ ناتا — ہرقدم جب راہ شیطان پہ ہو جاتا
خود کو اللہ سے بڑا باغیرت بتلاتے ہو — اسی لیے عورتوں کو زندہ دفناتے ہو
جس دیس میں انصاف بکتا ہو —- غریبوں کو انصاف نہ ملتا ہو
اس دیس کے تم باسی ہو —- قاضی جس کا راشی ہو
جو قاضی حکمرانوں کے تلوے چاٹے— لوگوں میں انصاف کیسے بانٹے
دانش! تیری کون یہاں سننے گا —- بکاؤ مال تمھیں ہر سو ملے گا
Recent Comments