08 Dec 2009
by sajiddanish
in غزل
آداب عرض ہے
اس وقت ملک جن حالات سے گذر رہا ہے اس پہ دل تو خونکے آنسو رو رہا ہے -
مگر اس وقت دل میں یہ بات بھی ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد -
بے گناہ لوگوں کے قتل پر دل افسوس اور ان شہدائے کے لیے دعا گو ہوں-
جہاد و فساد
اب جاہلوں نے فساد کو جہاد کہا ہے
احکام رسول سے خود کو آزاد کہا ہے
اپنی مرضی کا دین چاہتے ہیں
فساد کو وہی جہاد کہتے ہیں
منافقت کے علمبردار حکمراں ہمارے
لگتے ہیں ہمیں نہایت ہی پیارے
عہد و پیماں کا جو مذاق بناتے ہیں
احکام رسول کا یوں مذاق اڑاتے ہیں
ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے
کریں عوام گذارا روتے ہوئے
پاکستان کی احساس اسلام تھی
اخوت و محبت کا جو پیام تھی
عظمت اسلام کی جو داعی تھی
کرتی امن کی جو رہنمائی تھی
فسادیوں نے اللہ کو ہے للکارا
قرآن نے قوم مسلم کو پکارا
اللہ کرتا نہیں فسادیوں کو گوارا
ختم فساد تک جہاد ہے تمھارا
فسادیوں نے ہر جا کو بنایا مقتل ہے
مفسد حکم رسول سے واجب القتل ہے
پاکستانی قوم کا یہ ارادہ مصمم ہے
حکم الہی پہ سرتسلیم خم ہے
فساد کے خلاف علم جہاد بلند ہے
صفوں کو مضبوط کرو جہاد کرو
ان مفسدوں پہ نظر رکھو پاکستانیوں
ان کے چہرے بے نقاب کرو پاکستانیوں
جہاد کرو جہاد کرو جہاد کرو پاکستانیوں
Recent Comments