10 Feb 2012 Leave a Comment
in غزل
اسلام سے دور کا ناتا نہیں ہے خود کو مسلمان کہلاتے ہیں
خدا کی کوئی مانتا نہیں ہے خود کو صاحب ایمان کہلاتے ہیں
در پہ غیروں کے سجدہ ریز ہیں یہ آجکل کے ساجد ہیں
در پہ خدا کے کوئی سر جھکاتا نہیں ہے خود کو مسلمان کہلاتے ہیں
کرتے ہیں مسجدوں میں نمازوں پہ حملے یہ آجکل کے مجاہد ہیں
احکام رسول کو کوئی مانتا نہیں ہے رسول کےمحبان کہلاتے ہیں
کوئی جنازہ کوئی نمازی بچ نہیں سکتا یہ دور حاضرکے مسلمان
قبروں میں بھی کوئی قرار پاتا نہیں خود کو طالبان کہلاتے ہیں
دانش! اسلام کے یہ احکام نہیں ہیں اسلام فقط اقرار بالسان نہیں
مسلم حکم اللہ ورسول جھٹلاتا نہیں ہے نہ ایسےمسلمان کہلاتے ہیں
10 Feb 2012 Leave a Comment
in غزل
اے خدا ترےسوا سنتا کون ہے
محتاجوں کو ترے سوا دیتا کون ہے
مگر
ہر کوئی پیرو کار نفس ہے یہاں
ترے احکامات کو مانتا کون ہے
مسجد مندر گرجا سب ویراں
ترا دین سلام کو جانتا کون ہے
ہر نفس ہوس اقتدار میں مبتلا
ترا اقتدار کو مانتا کون ہے
باہم دست وگریبان ہیں مسلم
تری ،ترے رسول کی مانتا کون ہے
وہ جس کا اختیار ہر شہ پہ
اسے جانتا کون ،مانتا کون ہے
کہلاے مسلم ، اعمال کفار کرے
ترے اسلام کو جانتا کون ہے
دورحاضرکے مسلم لڑیں نہتوں سے
مسلح افراد سےٹکراتا کون ہے
دانش کو رب العظیم بچا ان گمراہیوں سے
الٰہی تری ہدایت کے سوا بچاتا کون ہے
RAHBAR
04 Jan 2012 Leave a Comment
in غزل
میری امیدوں کا ترجماں لگا
میری امنگوں کا جہاں لگا
پھر دل سے اترتا گیا رہبر
جب نہ ابوبکروعمر،علی وعثماں لگا
GAZAL
04 Jan 2012 Leave a Comment
in غزل
بیان ہوئی یہ سب حکایتیں ہیں
جن میں پوشیدہ چاہتیں ہیں
ہم ان راہوں کے مسافرہیں
جن پرلہو سے رقم داستانیں ہیں
میں شام الم کو سحرکروں کیسے
میرے چار سو بکھری نفرتیں ہیں
دلوں سے نفرتیں نکال دیں
عداوتیں بڑھنے سے لاشیں ملیں
جب ہاتھ چھوڑکردوست چل دے
فساد و جہاد
08 Dec 2009 Leave a Comment
in غزل
آداب عرض ہے
اس وقت ملک جن حالات سے گذر رہا ہے اس پہ دل تو خونکے آنسو رو رہا ہے -
مگر اس وقت دل میں یہ بات بھی ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد -
بے گناہ لوگوں کے قتل پر دل افسوس اور ان شہدائے کے لیے دعا گو ہوں-
جہاد و فساد
اب جاہلوں نے فساد کو جہاد کہا ہے
احکام رسول سے خود کو آزاد کہا ہے
اپنی مرضی کا دین چاہتے ہیں
فساد کو وہی جہاد کہتے ہیں
منافقت کے علمبردار حکمراں ہمارے
لگتے ہیں ہمیں نہایت ہی پیارے
عہد و پیماں کا جو مذاق بناتے ہیں
احکام رسول کا یوں مذاق اڑاتے ہیں
ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے
کریں عوام گذارا روتے ہوئے
پاکستان کی احساس اسلام تھی
اخوت و محبت کا جو پیام تھی
عظمت اسلام کی جو داعی تھی
کرتی امن کی جو رہنمائی تھی
فسادیوں نے اللہ کو ہے للکارا
قرآن نے قوم مسلم کو پکارا
اللہ کرتا نہیں فسادیوں کو گوارا
ختم فساد تک جہاد ہے تمھارا
فسادیوں نے ہر جا کو بنایا مقتل ہے
مفسد حکم رسول سے واجب القتل ہے
پاکستانی قوم کا یہ ارادہ مصمم ہے
حکم الہی پہ سرتسلیم خم ہے
فساد کے خلاف علم جہاد بلند ہے
صفوں کو مضبوط کرو جہاد کرو
ان مفسدوں پہ نظر رکھو پاکستانیوں
ان کے چہرے بے نقاب کرو پاکستانیوں
جہاد کرو جہاد کرو جہاد کرو پاکستانیوں
baqaooy mall
30 Aug 2008 Leave a Comment
in نظم
بکاؤ مال
یہ قاضی بکنے والے انصاف کیا دیں گے- احسان تلے دبنے والے انصاف کیا دیں گے
لوگو تم اس دیس کے باسی ہو – حکومت جسکی غیروں کی داسی ہو
بدعنواں جسکے رہبر ہوں — ڈاکو لٹیروں جیسے اکابر ہوں
شیطان کی جہت تم جاتے جو – خود کو مسلمان بھی کہلاتے ہو
پھراسلام سے تمھارا کیا رشتہ ناتا — ہرقدم جب راہ شیطان پہ ہو جاتا
خود کو اللہ سے بڑا باغیرت بتلاتے ہو — اسی لیے عورتوں کو زندہ دفناتے ہو
جس دیس میں انصاف بکتا ہو —- غریبوں کو انصاف نہ ملتا ہو
اس دیس کے تم باسی ہو —- قاضی جس کا راشی ہو
جو قاضی حکمرانوں کے تلوے چاٹے— لوگوں میں انصاف کیسے بانٹے
دانش! تیری کون یہاں سننے گا —- بکاؤ مال تمھیں ہر سو ملے گا
tamana madina
21 Mar 2008 Leave a Comment
کی تمناۓ مدینہ ، ہو گۓ اشک روواں
وہ ارض مقدس ،کہاں میرا مضمحل ایماں
ہر اک ادا جسکی اک عنواں
وہ رسول مبین خلق جسکا قرآں
اک بار کندھوں پہ عاصی اٹھاۓ
جانب مدینہ چلا قدم قدم لرزاں
کیسے کہو گے اک نعت دانش
وہ سراپا تقدس نہ یہاں پہنچے گماں
کون کر سکے دانش انکی مدحت بیاں
بیاں کرے جسکی مدحت خود یزداں





Recent Comments