Next Post

اسلام سے دور کا ناتا نہیں ہے                            خود کو مسلمان کہلاتے ہیں

خدا  کی  کوئی  مانتا  نہیں ہے               خود کو صاحب ایمان کہلاتے ہیں

در  پہ  غیروں کے سجدہ ریز ہیں                       یہ آجکل کے ساجد ہیں

در پہ خدا کے کوئی سر جھکاتا نہیں ہے                    خود کو مسلمان کہلاتے ہیں

کرتے ہیں مسجدوں میں نمازوں پہ حملے                    یہ آجکل کے مجاہد ہیں

احکام  رسول کو کوئی  مانتا  نہیں ہے                    رسول کےمحبان کہلاتے ہیں

کوئی جنازہ کوئی نمازی بچ نہیں سکتا                         یہ دور حاضرکے مسلمان

قبروں میں بھی کوئی قرار پاتا نہیں                   خود کو طالبان کہلاتے ہیں

دانش! اسلام کے یہ احکام نہیں ہیں                    اسلام فقط  اقرار بالسان نہیں

مسلم حکم  اللہ ورسول جھٹلاتا نہیں ہے               نہ ایسےمسلمان کہلاتے ہیں

اے خدا  ترےسوا سنتا کون ہے

محتاجوں کو ترے سوا  دیتا کون ہے

مگر

ہر کوئی  پیرو کار  نفس ہے یہاں

ترے  احکامات کو  مانتا   کون  ہے

مسجد مندر گرجا  سب  ویراں

ترا   دین  سلام کو  جانتا  کون  ہے

ہر نفس ہوس اقتدار میں مبتلا

ترا   اقتدار کو  مانتا  کون  ہے

باہم دست وگریبان  ہیں مسلم

تری ،ترے رسول کی مانتا کون ہے

وہ  جس  کا  اختیار ہر  شہ  پہ

اسے جانتا کون ،مانتا کون ہے

کہلاے مسلم ، اعمال کفار کرے

ترے اسلام کو جانتا کون ہے

دورحاضرکے مسلم لڑیں نہتوں سے

مسلح   افراد  سےٹکراتا  کون  ہے

دانش کو رب العظیم بچا ان گمراہیوں سے

الٰہی تری ہدایت کے سوا  بچاتا  کون  ہے

RAHBAR

میری امیدوں کا ترجماں لگا

میری امنگوں کا جہاں لگا

پھر دل سے اترتا گیا رہبر

جب نہ ابوبکروعمر،علی وعثماں لگا

GAZAL

بیان ہوئی یہ سب حکایتیں ہیں
جن میں پوشیدہ چاہتیں ہیں
ہم ان راہوں کے مسافرہیں
جن پرلہو سے رقم داستانیں ہیں
میں شام الم کو سحرکروں کیسے
میرے چار سو بکھری نفرتیں ہیں
دلوں سے نفرتیں نکال دیں
عداوتیں بڑھنے سے لاشیں ملیں
جب ہاتھ چھوڑکردوست چل دے

فساد و جہاد

آداب عرض ہے
اس وقت ملک جن حالات سے گذر رہا ہے اس پہ دل تو خونکے آنسو رو رہا ہے -
مگر اس وقت دل میں یہ بات بھی ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد -
بے گناہ لوگوں کے قتل پر دل افسوس اور ان شہدائے کے لیے دعا گو ہوں-

جہاد و فساد
اب جاہلوں نے فساد کو جہاد کہا ہے
احکام رسول سے خود کو آزاد کہا ہے

اپنی مرضی کا دین چاہتے ہیں
فساد کو وہی جہاد کہتے ہیں

منافقت کے علمبردار حکمراں ہمارے
لگتے ہیں ہمیں نہایت ہی پیارے

عہد و پیماں کا جو مذاق بناتے ہیں
احکام رسول کا یوں مذاق اڑاتے ہیں

ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے
کریں عوام گذارا روتے ہوئے

پاکستان کی احساس اسلام تھی
اخوت و محبت کا جو پیام تھی

عظمت اسلام کی جو داعی تھی
کرتی امن کی جو رہنمائی تھی

فسادیوں نے اللہ کو ہے للکارا
قرآن نے قوم مسلم کو پکارا

اللہ کرتا نہیں فسادیوں کو گوارا
ختم فساد تک جہاد ہے تمھارا

فسادیوں نے ہر جا کو بنایا مقتل ہے
مفسد حکم رسول سے واجب القتل ہے

پاکستانی قوم کا یہ ارادہ مصمم ہے
حکم الہی پہ سرتسلیم خم ہے

فساد کے خلاف علم جہاد بلند ہے
صفوں کو مضبوط کرو جہاد کرو

ان مفسدوں پہ نظر رکھو پاکستانیوں
ان کے چہرے بے نقاب کرو پاکستانیوں
جہاد کرو جہاد کرو جہاد کرو پاکستانیوں

write to BBC

baqaooy mall

بکا‎‎ؤ مال

یہ قاضی بکنے والے انصاف کیا دیں گے- احسان تلے دبنے والے انصاف کیا دیں گے

لوگو تم اس دیس کے باسی ہو – حکومت جسکی غیروں کی داسی ہو

بدعنواں جسکے رہبر ہوں — ڈاکو لٹیروں جیسے اکابر ہوں

شیطان کی جہت تم جاتے جو –  خود کو مسلمان بھی کہلاتے ہو

پھراسلام سے تمھارا کیا رشتہ ناتا — ہرقدم جب راہ شیطان پہ ہو جاتا

خود کو اللہ سے بڑا باغیرت بتلاتے ہو — اسی لیے عورتوں کو زندہ دفناتے ہو

جس دیس میں انصاف بکتا ہو —- غریبوں کو انصاف نہ ملتا ہو

اس دیس کے تم باسی ہو —-  قاضی جس کا راشی ہو

جو قاضی حکمرانوں کے تلوے چاٹے— لوگوں میں انصاف کیسے بانٹے

دانش! تیری کون یہاں سننے گا —-  بکاؤ مال تمھیں ہر سو ملے گا

 

tamana madina

کی تمناۓ مدینہ ،  ہو گۓ اشک روواں

وہ ارض مقدس ،کہاں میرا مضمحل ایماں

ہر اک ادا جسکی اک عنواں

وہ رسول مبین خلق جسکا قرآں

اک بار کندھوں پہ عاصی اٹھاۓ

جانب مدینہ چلا قدم قدم لرزاں

کیسے کہو گے اک نعت دانش

وہ سراپا تقدس نہ یہاں پہنچے گماں

کون کر سکے  دانش انکی مدحت بیاں

بیاں کرے جسکی مدحت خود یزداں

 

Previous Older Entries

Top Posts

  • None

Recent Comments

waywardwayfarer on pahchan
hearttish on jab paroos main lagi
umair on tarap
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.