trey rida
21 Mar 2008 Leave a Comment
صبح کو تیری ضیا سمجھوں
شب کو تیری ردا سمجھوں
مدینہ کی گلیاں تصور میں آئیں
خود کو جب میں گدا سمجھوں
سداکملی والے کے طفیل دانش
اہل دنیا سے بے پروا سمجھوں
Sahib iqtedar
20 Mar 2008 Leave a Comment
—————
صاحب اقتدار نے اک نئی طرح ڈالی ہے
نہ ہو انصاف عدالت ہی معطل کر ڈالی ہے
میں بڑا رہبر ہوں میرے بڑے رابطے ہیں
اسی لیے ہر حکم عدو پہ بے غیرتی کر ڈالی ہے
میں ہوں سپہ سالار پاکستان قوت ہوں میں
اسی لیے اپنی قوم ہی قتل کر ڈالی ہے
tanhaiyoon main
18 Mar 2008 Leave a Comment
تنہائیوں میں یادوں کے ساتھ ملو
کچھ دور اندھیروں میں میرے ساتھ چلو
میرے آنگن میں لگی آگ کون بجھاۓ
رہبر سے کہو کبھی میرے ساتھ جلو
تو کیوں ہے اس دہلیز کا گداگر
جو کہتا ہے تجھ سے سدا کہ ٹلو
دیا ملا کو تو نے ٹھیکہ پہ ایمان و دین
کبھی خود بھی فکر دین و ایمان پہ چلو
چھوڑی دی جو تو نے راہ فکر قرآن
بےتوقیری دربدری رسوائیوں سے ملو
دانش! کب تک کھاۓ گا دربدر کی ٹھوکریں
غیروں کو چھوڑ قرآن و صاحب قرآن سے ملو
pahchan
18 Mar 2008 1 Comment
in قطعہ
پہچان
احساس عزت نفس جس فرد کو نہیں
پاس قول و فعل جس مرد کو نہیں
دانش! خاندانی وہ کسی طور ہو نہیں سکتا
پہنچے جو ایفاۓ عہد کی گرد کو نہیں
jab paroos main lagi
15 Mar 2008 1 Comment
in نظم
—
جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی باڑ اکھاڑ کر اپنے گھر کو مضبوط کیا
اسکی دیوار گرا کر آنگن اپنا مربوط کیا
بھڑکتی آگ کو بھڑکا دیا
جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیالوں میں اپنے میں گم تھا
جانتا تھا کہ یہ بڑا ظلم تھا
سوچا کہ گھر ہے اپنا محفوظ کیا
جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رخ ہواؤں کے کب بدلتے ہیں
خبر نہ تھی لگی آگ میں جلتے ہیں
طاقتوروں سے بھی بڑی طاقت ہے
جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا رخ ہواؤں نے میرے آنگن کا
کیا باڑ نے کام ایندھن کا
اب سوچتا ہوں انجام حرص کا
جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
hamain talash
15 Mar 2008 Leave a Comment
in غزل
—-
ہمیں تلاش کرنے والے تھک گۓ ہوںگے
ہمراہی بھی کہیں راہوں میں رک گۓ ہرنگے
وہ اہل جستجو پلٹ کر نہیں آۓ دوبارہ
کہیں صحراۓ زیست میں بھٹک گۓ ہوںگے
ہمارے خوابوں کو کوئی تعبیر نہ مل سکی
گویا بن کر اشک پلکوں پہ اٹک گۓ ہونگے
روشنی کیسے ہو اب جھونپڑوں میں
چراغ جن کے ہو خشک گۓ ہونگے
پہنچے کب منزلوں پہ وہ کارواں دانش
امیر جنکے ہاتھ قزاقوں کے بک گۓ ہونگے
daykhaim kay
13 Mar 2008 Leave a Comment
in Uncategorized, قطعہ, غزل
———–
ديکھيں کيا ہوتا ہے برامد نتيجہ ملاقاتوں کا
پہلے تو سرے محل تھا نتيجہ قوم کے فاقوں کا
پھر لاشيں تھيں نتيجہ روشن خيالی کا
مسجديں ہوئيں ميدان تھا نتيجہ ملاؤں کا
دانش تو بھی ديکھے گا بادل برستا آنکھوں سے
ڈوبتی نيّا حکومت کی ڈوبتا سفينہ جنرنلوں کا
انجام نفرت
13 Mar 2008 Leave a Comment
————
ہم نے خود ہی تو ان راہوں کا انتخاب کیا ہے
جو ملا نہ سکیں ہمیں ان منزلوں کا اسباب کیا ہے
اب جدائی ہے تو پھر یہ پلٹ کر سوچنا کیسا
قدم اٹھا لیے تو اب یہ قدموں کا حساب کیا ہے
جو میرے ہمراہ خوشی سے نہ چل سکے
غربت کا میری اڑایا جسنے مذاق وہ احباب کیا ہے
شک ، بے جا ضد ، بے جا گماں کرو گے
نفرتیں بڑھیں گیں تو احساس عذاب کیا ہے
بہت سوچتا ہوں گذرے لمحات و ملاقاتوں کو
گے پڑ آئینہ دل میں بال ، ہجر کی بات کیا ہے
ہم سہہ لیں گے اب دنیا کی باتیں بھی ، یادیں بھی
کرب جدائی بھی ہے دل کو سمجھانے کی بات کیا ہے
اب تو یہ طے ہے تم آؤ نہ آؤ دل ملنے کے نہیں
نفربیں پال کر ملی ہو “زندگی” تو یادوں کا تیزاب کیا ہے
تم نے سنا نہیں میں نے کہا نہیں ان کہی ان سنی باتیں
“زندگی” کے حوالے تھے زندگی بے آب و تاب کیا ہے
اب تو یہ طے ہے سفر زیست تنہا گذارنا ہے مجھے
تو اپنی منزلوں کا انتخاب کر میری منزل کا انتساب کیا ہے
قدم اٹھایا ہے تو پلٹ کر سوچنا نہیں مجھے
راہوں میں کانٹے ہیں بکھرے یا گلاب کیا ہے
تجھے ترک امید کا نہیں کہتا تجھ بن دل بے قرار نہیں رہتا
بے چین دل کیا ہے اور دل کا اضطراب کیا ہے
زندگی نے عجب تمسخر کیا ہے وفا سے مجبوری سے
صاحب زر کی ہے دنیا دانش اور ترا خواب کیا ہے
aaj bohat
13 Mar 2008 Leave a Comment
in غزل
———-
آج بہت یاد آۓ پھر دل کو سمجھا لیا
اک چراغ امید بجھا اک چراغ امید جلا لیا
افسردہ دل ہے اور غم جدائی کا عذاب
اک غم کم ہوا تو دوسرے نے آ لیا
تیرا خیال ہے میری فکر کی نمود
تو یاد رہا پا لیا تو بھولے خود کو بھلا دیا
بجھنے نہ دیئے ہم نے کبھی یادوں کے چراغ
ہر رنگ میں تجھے سوچا ، ہر رنگ میں تجھے پا لیا
مجھے مدت ہوئی خود سے بیگانہ ہوئے
کبھی ہجر کبھی تیری یادوں نے آ لیا
محبتوں کے متلاشی ہیں سبھی دانش
دلوں کو نجانے کب نفرتوں نے آ لیا
duba
12 Mar 2008 Leave a Comment
in غزل
Recent Comments