trey rida

صبح کو تیری ضیا سمجھوں

شب کو تیری ردا سمجھوں

مدینہ کی گلیاں تصور میں آئیں

خود کو جب میں گدا سمجھوں

سداکملی والے کے طفیل دانش

اہل دنیا سے بے پروا سمجھوں

 

Sahib iqtedar

—————

صاحب اقتدار نے اک نئی طرح ڈالی ہے

نہ ہو انصاف عدالت ہی معطل کر ڈالی ہے

میں بڑا رہبر ہوں میرے بڑے رابطے ہیں

اسی لیے ہر حکم عدو پہ بے غیرتی کر ڈالی ہے

میں ہوں سپہ سالار پاکستان قوت ہوں میں

اسی لیے اپنی قوم ہی قتل کر ڈالی ہے

tanhaiyoon main

تنہائیوں میں یادوں کے ساتھ ملو

کچھ دور اندھیروں میں میرے ساتھ چلو

میرے آنگن میں لگی آگ کون بجھا‎‎ۓ

رہبر سے کہو کبھی میرے ساتھ جلو

تو کیوں ہے اس دہلیز کا گداگر

جو کہتا ہے تجھ سے سدا کہ ٹلو

دیا ملا کو تو نے ٹھیکہ پہ ایمان و دین

کبھی خود بھی فکر دین و ایمان پہ چلو

چھوڑی دی جو تو نے راہ فکر قرآن

بےتوقیری دربدری رسوائیوں سے ملو

دانش! کب تک کھاۓ گا دربدر کی ٹھوکریں

غیروں کو چھوڑ قرآن و صاحب قرآن سے ملو

pahchan

پہچان

احساس عزت نفس جس فرد کو نہیں

پاس قول و فعل جس مرد کو نہیں

دانش! خاندانی وہ کسی طور ہو نہیں سکتا

پہنچے جو ایفاۓ عہد کی گرد کو نہیں 

jab paroos main lagi

 —

جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اسکی باڑ  اکھاڑ کر اپنے گھر کو مضبوط کیا

 اسکی دیوار گرا کر آنگن اپنا مربوط کیا

 بھڑکتی آگ  کو بھڑکا دیا

 جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

خیالوں میں اپنے میں گم تھا

 جانتا تھا کہ یہ بڑا ظلم تھا

 سوچا کہ گھر ہے اپنا محفوظ کیا

 جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رخ ہواؤں کے کب بدلتے ہیں

 خبر نہ تھی لگی آگ میں جلتے ہیں

 طاقتوروں سے بھی بڑی طاقت ہے

 جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 کیا رخ ہواؤں نے میرے آنگن کا

 کیا باڑ نے کام ایندھن کا

 اب سوچتا ہوں انجام حرص کا 

جب پڑوس میں لگی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

hamain talash

 —-

ہمیں تلاش کرنے والے تھک گۓ ہوںگے

ہمراہی بھی کہیں راہوں میں رک گۓ ہرنگے

 وہ اہل جستجو پلٹ کر نہیں آۓ دوبارہ

کہیں صحراۓ زیست میں بھٹک گۓ ہوںگے

 ہمارے خوابوں کو کوئی تعبیر نہ مل سکی

گویا بن کر اشک پلکوں پہ اٹک گۓ ہونگے

 روشنی کیسے ہو  اب جھونپڑوں میں

چراغ جن کے ہو خشک گۓ ہونگے

 پہنچے کب منزلوں پہ وہ کارواں دانش

امیر جنکے ہاتھ قزاقوں کے بک گۓ ہونگے

daykhaim kay

 ———–

ديکھيں کيا ہوتا ہے برامد نتيجہ ملاقاتوں کا

پہلے تو سرے محل تھا نتيجہ قوم کے فاقوں کا
پھر لاشيں تھيں نتيجہ روشن خيالی کا
مسجديں ہوئيں ميدان تھا نتيجہ ملاؤں کا
دانش تو بھی ديکھے گا بادل برستا آنکھوں سے

ڈوبتی نيّا حکومت کی ڈوبتا سفينہ جنرنلوں کا

انجام نفرت

 ————

ہم نے خود ہی تو ان راہوں کا انتخاب کیا ہے

جو ملا نہ سکیں ہمیں ان منزلوں کا اسباب کیا ہے

 اب جدائی ہے تو پھر یہ پلٹ کر سوچنا کیسا

قدم اٹھا لیے تو اب یہ قدموں کا حساب کیا ہے 

جو میرے ہمراہ خوشی سے نہ چل سکے

غربت کا میری اڑایا جسنے مذاق وہ احباب کیا ہے

 شک ، بے جا ضد ، بے جا گماں کرو گے

نفرتیں بڑھیں گیں تو احساس عذاب کیا ہے

 بہت سوچتا ہوں گذرے لمحات و ملاقاتوں کو

گے پڑ آئینہ دل میں بال ، ہجر کی بات کیا ہے

 ہم سہہ لیں گے اب دنیا کی باتیں بھی ، یادیں بھی

کرب جدائی بھی ہے دل کو سمجھانے کی بات کیا ہے

 اب تو یہ طے ہے تم آؤ نہ آؤ دل ملنے کے نہیں

نفربیں پال کر ملی ہو “زندگی” تو یادوں کا تیزاب کیا ہے

 تم نے سنا نہیں میں نے کہا نہیں ان کہی ان سنی باتیں

“زندگی” کے حوالے تھے زندگی بے آب و تاب کیا ہے

 اب تو یہ طے ہے سفر زیست تنہا گذارنا ہے مجھے

تو اپنی منزلوں کا انتخاب کر میری منزل کا انتساب کیا ہے

 قدم اٹھایا ہے تو پلٹ کر سوچنا نہیں مجھے

راہوں میں کانٹے ہیں بکھرے یا گلاب کیا ہے 

تجھے ترک امید کا نہیں کہتا تجھ بن دل بے قرار نہیں رہتا

بے چین دل کیا ہے اور دل کا اضطراب کیا ہے

 زندگی نے عجب تمسخر کیا ہے وفا سے مجبوری سے

صاحب زر کی ہے دنیا دانش اور ترا خواب کیا ہے

aaj bohat

 ———-

آج بہت یاد آۓ پھر دل کو سمجھا لیا

اک چراغ امید بجھا اک چراغ امید جلا لیا

 افسردہ دل ہے اور غم جدائی کا عذاب

اک غم کم ہوا تو دوسرے نے آ لیا

 تیرا خیال ہے میری فکر کی نمود

تو یاد رہا پا لیا تو بھولے خود کو بھلا دیا

 بجھنے نہ دیئے ہم نے کبھی یادوں کے چراغ

ہر رنگ میں تجھے سوچا ، ہر رنگ میں تجھے پا لیا

 مجھے مدت ہوئی خود سے بیگانہ ہوئے

کبھی ہجر کبھی تیری یادوں نے آ لیا

 محبتوں کے متلاشی ہیں سبھی دانش

دلوں کو نجانے کب نفرتوں نے آ لیا

duba

  ———-

ڈوب گئے ستارے شب بھر انتظار کے بعد

کون مل کر کھو گیا  دل  کے   قرار  کے بعد

جب سے ہوئی  ہے سر راہ ملاقات ان سے

جانے کیوں ہوتا ہے بے چین دل بہار کے بعد

جیسے  مسافر   چھپ   جائے   ہے   پس  غبار

روٹھ جاتے ہیں اپنے تھوڑی سی تکرار کے بعد

ستاروں    سے   بات   ہوئی   منازل    کی

ہر ستارہ رہگزر نکلا  جستجو  یار  کے بعد

ہم نے دریاؤں سے بات کی عظمت بحر کی

ہر   قطرہ   آب   پکار  اٹھا  یار   کے   بعد

ہم نے دامن  آتش  بھیگا  دیکھا   تو   سوچا

ظالم بھی روتا ہو گا ستم کے ہر وار کے بعد

جانے کیوں لوگ سہمے سہمے رہتے ہیں دانش

خوف   کس   کا   ہے   خداۓ   جبار   کے   بعد

Previous Older Entries Next Newer Entries

Top Posts

  • None

Recent Comments

waywardwayfarer on pahchan
hearttish on jab paroos main lagi
umair on tarap
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.